|
وہ رشتے جو کبھي اپنے تھے
صرف اپنے
جس کو ہم پر اور ہم کو ان پر
کبھي مان تھا بہت
اعتماد تھا اس قدر
کہ خود اعتماد تھے ہم
پيار تھا اس قدر
کہ مثال تھے ہم
مان تھا اس قدر
کہ بے مثام تھے ہم
پھر کيا ہوا اچانک؟
کہ ٹوٹا آئينہ اور۔۔۔۔
دراڑ رہ گئي
کہاں ہماري وہ
پہچان رہ گئي؟
حيراں ہم پر ہماري
خود يہ ذات رہ گئي
نہ خطا ہوئي کوئي
نہ سرکشي کي ہم نے
نظروں ميں سب کي مگر
خطاکار رہ گئي۔۔۔۔۔ |