|
لوکھو ديا آج وہ مقام ہم نے
کو پايا تھا اک عمر کے بعد ہم نے
کانچ کي کرچيوں سے کھيلتے رہے اب تک
يہ جانا زخم کھانے کے بعد ہم نے
شجر بھي کب تلک بوجھ اٹھائے گا آخر
يہ سوچا شاخ سے گر جانے کے بعد ہم نے
سمجھے تھے
کہ سرخرو ہوگئے ہيں
پروہ تھکن اٹھائي سستانے کے بعد ہم نے
ڈھونڈتے رہتے ہيں آج اس مقام کو
جہاں ريت پر چھوڑے تھے نشان ہم نے
کہوں ساتھ چھوڑ ديا ان رشتوں نے
محسوس کيا تھا جس کو يہاں وہاں ہم نے
اک بار تو بتادو خطا کيا ہوئي
کيا يونہي کي عمر رائيگاں ہم نے
صرف جس کي خوشي کي خاطر
ہر خواہش کا سر کچل ديا ہم نے
آج وہ ہي نالاں نظر آئے ہيں
آخر کيا برا کيا ہم نے |