|
محفل ميں بيٹھ کر نظروں کي جنبش سے
اس نے چھيڑا پھرا اک بار ميرے دل کے تاروں کو
باس اسي جلترنگ ميں سر دھنتا ہے يہ دل
لگتاہے کہ جيسے پيغام پہنچ گيا ہو بہاروں کو
زندگي کے گلشن کےسب پھول کھل گئے
يہ نويد سنا دو سب گلزاروں کو
ميں اس کے ساتھ چلوں گي جب تلک
دي اجازت زندگي نےميري سانسوں کا
وہ ميرا ہو کر بھي ميرا ہو نہ سکا تو کيا
ميں دکھلا دوں گي عورت کي وفا دو جہانوں کو
احساس کي پنکھڑي کو کچل کر بھي ديں وقت کے ہاتھ تو کيا
کھيل سکھلاتا ہے گر گر سنبھلنا شہ سوارواں کو
|