|
ہميں زندگي رت جگے دے چلي ہے
ہجر کے نئے سلسلے دے چلي ہے
بنا کے مقدر مرے ہي لہو سے
وہ غيروں سے بدتر صلے دے چلي ہے
جو ميرے سکوں کي دعائيں تھي کرتي
مري موت کو فاصلے دے چکي ہے
بھلائے جنہيں ميں بھلا نہ سکوں گا
مجھے جاتے جاتے گلے دے چلي ہے
جلي تھي شمع وہ جو کل رات ساحل
تخلص نيا دل جلے دے چلي ہے
|