|
خبر اک بنا کے اچھالے گئے ہيں
ترے در سے يوں ہم نکالے گئے ہيں
بھنور ميں ڈبويا محبت تري نے
وہ تنکوں کے سارے حوالے گئے ہيں
مسافت ہماري ختم جو ہوئي ہے
تو راہوں کے سارے وہ چھالے گئے ہيں
جنہيں ساحلوں سے محبت بہت ہو
وہ پاني کہاں پھر سنبھالے گئے ہيں
تخيل مرے کو يہ کيا ہو چلا ہے
کہاں روشني و اجالے گئے ہيں
وہ روشن خيالي وہ چہرے کي لالي
مرے غم سبھي کچھ بہالے گئے ہيں
مسيحا مرے اب يہ پھندے ہيں ساحل
يہ ميرے گلے میں جو ڈالے گئے ہيں
|