|
مري منزليں اب سفر کے حوالے
ابھي دور ہيں منزلوں کے اجالے
غريبي خدار دغا نہ سکھانا
پڑيں چاہے جان کو ہماري يہ لالے
يہ عزت کي روٹي غنيمت بڑي ہے
خدا کا شکر کر محبت سے کھالے
جو پھل خود اگر ہو ہوائوں کے ڈر سے
اسے يہ شجر پھر سے کيسے اٹھالے
جنہيں ديکھتے تھي صدي اک بتادي
وہ سپنے کسي کي نظر نے چرالے
وہ اشکوں کا دريا تو صحرا ہوا ہے
يہ آنکھ اب لہو لے سوا کيا نکالے
تجھے مل سکے گي وہ خوشبو کبھي نہ
ہوا ميں محل چاہے جتنے بنالے
محبت نے ايسا ڈبويا ہے ساحل
کہو يہ بحر سے ہميں پر اچھالے |