|
محبت تمہي ہو تمہي تو وفا ہو
صداقت کي پيکر مجسمہ حيا ہو
بہت ناز تم يہ بہت ہے بھروسہ
ازل سے جو مانگي وہي تم دعا ہو
حقيقت ميں خوابوں سے بڑھ کر حسيں ہو
زباں سے تري اور تعريف کيا ہو
رہيں دور تجھ سے غموں کے يہ بادل
نہ بر سے کبھي جو دکھوں کي گھٹا ہو
گلے سارے ساحل کے تب دور ہوں گے
اگر نام تيري زباں سے داد ہو
رہے تو سدا خوش، خوش نہ خفا ہو |