|
رفتہ رفتہ موسموں سے آشنا ہو جائے گا
جب ترا بھي اہل دل سے سامنا ہو جائے گا
اک نہ اک دن پاہي لے گا تو بھي منزل کا
نشاں
دھيرے دھيرے بادلوں سے راستہ ہوجائے گا
دور تک ان راستوں پہ ساتھ تيرا گر نہيں
چلتے چلتے يونہي تنہا قافلہ ہو جائے گا
سونا سونا اجڑا اجڑا لاکھ تيرا گھر سہي
تنکا تنکا جب ملے گا گھونسلہ ہو جائےگا
ڈھونڈھتا ہے تو جسے مل ہي جائے گا کہيں
راحتوں کا ختم جب يہ سلسہ ہو جائے گا
کون جيتا کون ہارا زندگي کي دوڑ ميں
يہ قيامت کي گھڑي پہ فيصلہ ہوجائے گا
نفرتيں بھي چھوڑديں گي جان ساحل ايک دن
چاہتوں کا پھر شروع اب سلسلہ ہوجائے گا |