|
يہ مانا کے دامن چھڑايا اسي نے
مگر تھا گلے بھي لگايا اسي نے
ميں کيسے کہوں پھر اسے بے وفا اب
وفا بھي تو کرنا سکھايا اسي نے
ہوا کيا جو اس نے نظر ہے چرالي
مرا دل کبھي تھا چرايا اسي نے
فقط آنکھ سے ہي بہا کے گيا ہے
رگوں ميں کبھي تھا سمايا اسي نے
يہ کس نے کہا کہ نبھانہ سکا وہ
جنازہ مرا تو اٹھايا اسي نے
مرا درد بڑھ کے غزل بن گيا ہے
ميں شاعر تھا عاشق بنايا اسي نے
|