|
زرا ذات اپني کے تم سحر سے تو نکلو
يہ ہونے نہ ہونے کے ڈر سے تو نکلو
پسينہ پينہ بدن ہو تمہارا
کڑي دھوپ ميں تم بھي گھر سے تو نکلو
کہ باتيں بہت ہيں ابھي کرنے والي
يہ لفظوں کي زير و زبر سےتو نکلو
يہ خوابوں کا پردہ اٹھا کر تو ديکھو
ذرا حسرتوں کي قبر سے تو نکلو
ابھي دشمنوں کا قرض ہے چکانا
مگر دوستوں کي نظر سے تو نکلو
مسافت کے قصے ہميں پھر سنانا
ابھي خواہشوں کے سفر سے تو نکلو
|