|
انجان شہر ميں ہم انجان ہوگئے
سينچے تھے جو باغ پيار کے ويران ہوگئے
بھروسہ بہت تھا اپني عبادتوں پہ ہم کو
ايسے گرے عشق ميں بے ايمان ہوگئے
علاہ فرقت ميں نکل پڑے صحرائوں ميں
پاگل ديوانہ عاشق ميرے نام ہوگئے
خد ہي چڑھا کے ميرے جذبات کو سولي پر
اب پوچھتے ہيں تم کيوں بے جان ہوگئے
|