|
خيانت
انصاف زمانہ کي گرد ديجئے اجازت مجھے
ميں وہ ہوں جو اپني بھي حمايت نہيں کرتا
منزل محبت ملتي ہے سب لٹا کر
ہم سفر با وفا ہو شرائط نہيں کرتا
ہر ستم سہہ گيا ميں زمانے کا
ميں سچا تھا کبھي يہ شکايت نہيں کرتا
تم اپني چاہتوں کو مجھے سونپ کر ديکھو
ہر شخص امانت ميں خيانت نہيں کرتا
|