|
لمحات
پھر کسک اٹھي ہے گزرے ہوئے لمحات کي
ٹوٹ کر جو بکھرے ان معصوم جذبات کي
ديکھتے ہي ديکھتے چھوڑ کر سب چل دئيے
بڑي حسيں ہے داستاں اس عجيب رات کي
صفہ محبت سے نام ہمارا مٹا کر
ہونٹوں پر ہنسي تھي اسکي آنکھوں ميں برسات تھي
لمحہ بہ لمحہ چھوڑ ديا لفظوں نے بھي ساتھ
آخر تک نہ کہہ سکے دل ميں دبي وجوہات تھي
|