موسم
اداس نظر آتا ہےوہ چشم نم کي طرح بدلتا ہے اپنا رنگ موسم کي طرح
ملا تھا تو خوشيان ہزار ليکر آيا تھا بچھڑا تو کر گيا مجھے ايک غم کي طرح
ساتھ چل کے وہ فخر يار ہوگيا نظرين پھرايں اک بے شرم کي طرح