|
نظريں
يقيں ہوگيا کہ انکو محبت نہيں ہے ہم سے
وہ شخص مجھے ديکھ کر نظريں چرا گيا
پہلے تو روز ہوتي تھي ديددار کي خواہش
اب تو جيسے وہ ميري روح ميں سما گيا
ہنستے ہيں لوگ مجھ پر سن کر ذکر يار
وہ شخص ميري ذات کو افسانہ بنا گيا
اچھے تھے گزرے دن کرتےہيں ياد انکو
عشق آکے ساري خوشياں ہي کھا گيا
|