شوق
شوق دل ايسا لگا کہ ہار گئے جن سے تھا جنموں کا سنگم وہ ہي مار گئے
بن گئے راکھ شمشانوں کي سارے ہار سينگار گئے
ہر طرف ہے اک سناٹا سارے سوچ و چار گئے
بيٹھے بيٹھے ديدار کي خاطر راہ ميں وہ آئے اور ٹھوکر آکر مار گئے