|
سلسلہ
چلتا رہا سلسلہ چاہتوں کا رکا نہيں
جو بھي آیا زد ميں لٹ گيا بچا نہيں
ہر دور ميں ڈھونڈتے رہے علاج دل
سمجھے نہيں نادان اس کي دوا نہيں
ہر آنکھ اشک بار رہي چاہتوں کے دور ميں
اس امتحاں کے بعد کوئي ہنسا نہيں
جو بھي گيا اس راہ پر گمنام ہوگيا
اس راستے ميں کوئي منزل مکاں نہيں
|