|
کسي کي ياد ميں پلکيں ذرا بگھوليتے ہيں
اداس رات کي تنہائي ميں رو ليتے ہيں
دکھوں کے بوجھ اکيلئے نہيں سنبھلتا
کہيں وہ ملتے تو اس سے لپٹ کر روليتے
اگر سفر ميں ہمارا بھي ہمسفر ہوتا
بڑي خوشي سے انہي پتھروں پر سوليتے
يہ کيا کہ روز وہي چاندني کي بستر ہو
کبھي دھوپ کي چادر بچھا کر سو ليتے
|