|
سامنے آپ نہ ہو اچھا نہيں لگتا
چمن ميں کھلا کوئي گلاب اچھا نہيں لگتا
کرنا ہي ہے تو پرورش والوں سے کيجئے
مد ہوشوں کرنا حجاب اچھا نہيں لگتا
آپ بھي چلتے ہيں اگر تو چلئيے مے خانے
ميں
ہميں اکثر شراب پينا اچھا نہيں لگتا
ديکھي ہے جب سے آپکي صورت باخدا
فلک پہ چمکتا ماہتاب اچھا نہيں لگتا
آپ کي جھيل سحر آنکھوں ميں بس اک کمي ہے
کہ بنا پاني کہ تالاب اچھا نہيں لگتا
اب چلے بھي آئو کہ بار کے ختم ہو جائے
ہميں انتظار کايہ عذاب اچھا نہيں لگتا
جسے پڑھ جائے عادت انہيں ديکھنے کي شعيب
اس کوئي اور صورت اچھي نہيں لگتي |