انتظار زمستاں ميں آنکھيں پھيلائے بہار پھول سے ہر طرف پھيلائے
نئي صدي کےنئے دن ہيں ديکھے کيا تقدير مجھے دکھلائے
مبرا ہيں خشوع خضوع سے سجدے اپنے دعائوں ميں اثر کہاں سے آئے
وہ جو بھولے تھے مدت سے آج بلا ارادہ ہم ان ہي راستوں سے آئے