|
کوئے وفا سے ہم ہزار بار گزر کے آئے
مگر کوئي صدائے شناسا بھي نہ آئي کہيں سے
محبتوں ميں وہ جو دعوي گر تھا
تا آباد ہے انتطار کي شمع جلائے رکھنے کا
وہ کہيں نظر نہيں آيا
محبتوں کا بھيد ہميں تو اب تک سمجھ نہيں آيا
آخري موڑ مڑ مڑنے تک ہم منتظر تھے
کوئي دامن تھام لے ہمارا
کوئي شمع شايد گلي جلي ہو کہيں
اس گلي سے گزر آئے
ناکام و دل گرفتہ ہر بار
محبت کو تلاشے رہے
مگر
تشنہ لب ونا کامران
اور جب نکلنے لگے کوچے سے
تو اک صدائے نہ آشنا آيا
نادان نا سمجھ
مت تلاش کر اسے يہاں اب
شہر محبت ميں کوئي وفا
کہيں نہيں ہے
پہلے ہوتا تھا کبھي
اب نہيں ہے
|