اپنے اس ديوانے سے بے رخي نہيں اچھي
غير سارے لوگوں کي دوستي نہيں اچھي
تو کسي کي آنکھوں ميں خواب بن کے تھرا ہے
خواب کي حقيقت سے دشمني نہیں اچھي
ہم تمہاري چاہت ميں رات دن تڑپتے ہيں
يوں کسي کے جذبوں سے دل لگي نہيں اچھي
ميں تمہارے ہونٹوں سے ہاں ہيں سننا چاہتا ہوں
اس نئے زمانے ميں سادگي نہيں اچھي
گر کسي سے الفت کا کاروبار ہو جائے
زيست تک نبھاؤ تم عارضي نہيں اچھي
چاند تيري کرنوں سے کون کون جھلسا ہے
سوگوار راتوں ميں چاندني نہيں اچھي |