|
درد جب حد سے سوا ہوتا ہے
خود آپ اپني دوا ہوتا ہے
ڈوبتي کشتي جو کنارے سے لگا ديتا
ہے
لوگ کہتے ہيں وہ خدا ہوتا ہے
ہم تصور ميں ملنے کے نہيں قائل
بل مشافہ ملنے کا کچھ اور مزا ہوتا ہے
بات لوگوں کي جو درمياں سے کاٹے
لوگ کہتےہيں وہ گدھا ہوتا ہے
بندوں کا ديا ہوتا ہے احسان
اللہ سے ملتا ہے وہ صلہ ہوتا ہے
غيروں سے کيا جاتي ہے شکايت توقير
اپنوں سے جو کرتے ہيں گلا ہوتا ہے
|