|
نہ جانے کيا ہوا کل رات تيري محفل میں
جو تيري بزم سے نکلا وہ سوگورا آيا
تمہاري ياد تھي يا رقيب سے ضد مجھ کو
زباں پے مري تمہارا ذکر بار بار آيا
سنا تھا بڑا ذکر تمہارے کوچے کا
گيا تھا ہنستا ہوا اشک بار آيا
ارادہ تھا ا ن سے روٹھ رہ جانے کا
وہ ہنس پڑے تو بہت ہي پيار آيا
نہ ہم ملے نہ تم ملے نہ دل ملے
نہ جانے کيسا اب کے موسم بہار آيا
دل مضطر کا بہلا نہ آساں نہيں توقير
بہت رويا تو تھوڑا سا قرار آيا
|