|
عالم ياس ميں يوں عزت اپني اچھالتے جائيں
گے
اسکا نام کھلے عام راہوں ميں پکارتے جائيں گے
سولي پر لٹکي ہے جان کون ديکھے اب مان
پان
نشہ شباب ميں گر بيبان اپنا پھاڑتے جائيں گے
طمع خام حسرتوں کو مٹاديں گے آج کي رات
دل غم کا بوجھ سرمہفل اتارتے جائيں گے
خزاں کي اجاڑ شاموں کا، انتظار ہے شدت سے
نفس سرد ميں موسم گل کو تالتے جائيں گے
ان الجھي ہوئي سوچوں کو اک نيا موڑ دے کر
يہ زندگي نئے ڈھنگ سے گزارتے جائيں گے
انہيں تو جستجو ہر دم جلوہ کناں رہنے کي
وفا کا رکھ بھرم ہر بازي ہارتے جائيں گے
|