|
آتے جاتے اسکي ذات پر برا اثر پڑتا ہے
مہہ خانے کے راستے ميں اس کا گھر پڑتا ہے
کئي بار گرے ہيں مدہوش اس کي چوکھٹ پر
اپني ہي راہ روش ميں ظالم گزرنا پڑتا ہے
ابھي تک لپٹي بيٹھي ہيں ياديں اس کے ساتھ
سامنے ميدان ميں جو سوکھا شجر پڑتا ہے
مدہوش سا ہو جاتا ہوں اس سحر ماحول ميں
چاندکا سايہ جب ہر طرف بکھر پڑتا ہے
اک بارستاروں سے چاند کا حال کيا پوچھا
اب ہر ستارہ مري چھت پر ٹہھر پڑتا ہے
ضروري نہيں طاہر زندگي يوں بيت جائے
ايک نہ ايک دن مشکل وقت سنور پڑتا ہے
|