|
معلوم ہم کو محبت کےسارے آداب تھے
بس اپنے بچھڑنے کےاور ہي اسباب تھے
ساتھ چھوڑا مرا اس نے اچھے حالات ميں
جب دنوں کھلتے خوابوں ميں گلاب تھے
فلسفے پڑھے بس محبت کےبارے ميں
شامل تو کورس ميں اور بھي نصاب تھے
غم دوش نے الجھائے رکھا تمام عم ہم کو
ورنہ ہر حال ميں ہنسنے کو بے تاب تھے
خزاں کے ساتھي بنے ہيں يہ ننگے درخت
موسم گل ميں جن کے جو بن پر شباب تھے
جسکے لئيے طاہر نے دن رات خاک چھاني
وہ تو کسي اور کي چاہت ميں بے تاب تھے
|