|
متاح حيات کو يوں الوداع کر ديں گے
آخري رسم ہے خوشي خوشي ادا کرديں گے
جدائي کے بعد مہہ جانے ميں مے خواري
ماضي کا ہر پل ہر اک لمحہ فنا کرديں گے
اگر مانگ ليا مجھ سے اس نے امتحان کوئي
دےکر جان ثابت اپني وفا کرديں گے
دل نے اگر کئيے ہزاروں ماتم اسکي ياد ميں
جبر کرکے دل کو جسم سے جدا کرديں گے
صحرا ميں کھڑا کھجور کا اک اجڑا درخت
سنا کر حال دل اسے اپنا ہم نوا کردیں گے
طاہر بيتائے گا دن رات اشک واہ ميں
کچھ دنوں ميں زخموں کي قضا کرديں گے
|