|
محفل ميں ترا ذکر کيا تھا بہت احترام سے
لوگ پکارنے لگے ہيں مجھے ترے نام سے
ترے رو برو جو بات کہني تھي کہي نہ گئي
لوگوں نے کہہ دي وہ بات بڑے آرام سے
سوچتا ہوں تري کھلي زلف کي چھائوں تلے
کوئي شام منائيں گے بڑے اہتمام سے
مري سوچوں ميں صرف ايک ہي ذکر رہا
دشت صحرا تک واقف ہيں اعلام سے
ہم زندگي اٹھائے پھرتے ہيں آگے پيچھے
پيش نگاہ ہوکر بھي وہ انجان مرے نام سے
کئي نظروں کا پہرہ ہر وقت تري جانب
اے طاہر بچ کر رہنا کسي بے الزام سے
|