|
محبت ميں عدل و انصاف کرنے لگا ہے
مري چاہت کا وہ اعتراف کرنےلگا ہے
مرے نام کے ساتھ اپنے نام لکھنے کيلئے
درخٹ کے تنے پر جگہ صاف کرنے لگا ہے
کئي بار روک ہے اسے کہ بدنام ہوجائے گے
ہر وقت مرے گھر کے طواف کرنے لگا ہے
گزرتي ہے رات کو سونے جاگنے کے چکر ميں
مري نيندوں ميں آکر شگاف کرنے لگا ہے
انھيروں کا کہر جمع ہے مرے آس پاس
منظر دھندلے سب صاف کرنے لگا
اسکي آنکھوں ميں طاہر نے پڑھي ہے يہ
تحرير
عمر بھر سنگ رہنے کا انکشاف کرنے لگا ہے
|