|
اٹھائے پھرتا ہوں اک پوٹلي ساتھ اپنے
جس ميں باندھ رکھے ہيں خواب اپنے
لگتا ہے سارے شہر ميں کوئي غم خوار نہيں
لوگ چھوڑ رہے ہيں پرانے داب اپنے
ياد ايام تلخ لمحے گزرے ہيں زندگي ميں
عذاب تنہائي ميں کاہيدہ اعصاب اپنے
اجازت دے دي اگر آنکھوں کو رونے کي
پھر دکھائي ديں گے شہر ميں نيلاب اپنے
ہر تازہ جھونکے ميں شامل ہے اسکي خوشبو
طاہر محسوس کرنے لگا سانس طاب اپنے
|