|
گلہ
کريں گے نہ تجھ سے تري جفائوں کا
کہ ہم پہ فرض ہے الگے ہي کج ادائوں کا
بنا نہ
جاسکا لہجہ کوئي دعائوں کا
الجھ کے رہ گيا ريشم مري نوائوں کا
تھکن
بلا کي تھي ليکن نہ ترک کي پرواز
پروں کو درد تھا بے آسرا ہوئوں کا
پرندے
لوٹ سکين اپنے مسکنوں کي طرف
جو سحر ٹوٹے کبھي گرم رت فضائوں کا
ترس نہ
جائے سماعت کسي کے لہجے کو
جواب ديتے رہو آشانہ صدائوں کا
کبھي
ہوا پہ کبھي موج نتد پر الزام
فريب کھل کے نہيں ديتا نا خدائوں کا
ہوں لاکھ مشلکيں آسان ہو ہي
جاتي ہيں
جو سر پہ ہاتھ ہو ماں باپ کي دعائوں کا
|