|
کبھي
جو شوق زرا بال وپر ميں جاگا ہے
وہيں پہ خوف نيا بال و پر ميں جاگا ہے
نہ
آسماں نہ مزاج ہوا ہي راست مگر
کسي کاحرف دعا بال و پر ميں جاگا ہے
بتا
رہي ہے جھکتے پروں کي بست و کشاد
کہ اب شعور فضا بال و پر ميں جاگا ہے
يہ کس
گماں کيا ہوائوں ميں اڑے ہيں طيور
جو شق اب کے سوا بال و پر ميں جاگا ہے
ابھي
حدوں ميں مقيد نہ کر مري پرواز
کہ اب تو کيف ذرا بال و پر ميں جاگا ہے
امنگ
گردش خوں کا ہي نام ہے طارق
مگر جب اس کا نشا بال وپر ميں جاگا ہے
|