|
خبر جو
ہوتي
ہميں
خبر نہ تھي ہم يوں ذرور رساں ہونگے
خبر جو ہوتي تو اک سانس بھي نہ ليتے ہم
تمہاري سمت ميں اک گام بھي نہ چلتے ہم
اگر چہ
راہ کے منظر اداس تھے سارے
تھے گردراہ کے ذروں ہي ميں چھپے تارے
چمک اٹھے ہيں جو خود سے تو اب گلہ کيسا
جبيں پہ چمکيں گے داماں کو جگمگائيں گے
يہ خاک
ذرے مگر خواب زرفشان بھي ہيں
نگاہ تيرہ افق پر يہ کہکشاں بھي ہيں
چلو تو راہ کے منظر بدلتے جاتے ہيں
وہي جو راز تھے اب تک وہ کھلتے جاتے ہيں
يہي تو ہے خلش گام گام کا جادو
|