|
منظر لکھنے پڑتے
کتنے لفظ
نوک زباں تک
آتے آتے کھوجائيں گے
کتنےحروف
لبوں پر آکر
با معني ہوجائيں گے
کتنے دہکتے درداناگرے
بجھتے وقت کي راکھ کے نيچے سو جائيں گے
کونسي شاخ دل پر اب کے
درد ا اکھوا پھوٹے گا
کون بنے گا درد کا سانجھي
کس رہتے پر کس لمحے ميں ساتھ کسي کا چھوٹے گا
کہاں اگيں گي سکھ کي فصليں
کون سراب کمائے گا باد صبا کا کون سا جھونکا
خوشياں خوشبو لائے گا
گلشن کو مہکائےگا
کون جلے شاخ پہ تنہا
کون ساگل مر جھائے گا
کون بھلا دے گا ہم کو
اور کون نہيں ياد آئےگا
کہاں کہاں پر رونا ہوگا
کہاں کہاں دل گائے گا
اب ہم کوخود اپنے قلم سے
آتي جاتي ايک اک رت کے منظر لکھنے پڑتے ہيں
وقت سے پہلے ہي سکھ کے دفتر لکھنے پڑتے ہيں
|