|
نہ اوس بوند نا باد سحر سے آيا تھا
گلوں پہ جو داد نظر سے آيا تھا
بسا ہوا ہے بدن اک عجيب خوشبو ميں
کہاں گيا تھا ميں کل شب، کدھر سے آيا تھا
کسي نے جيسے دکھے دل پہ رکھ ديا ہو ہاتھ
اگر چہ لوٹ کے ميں اس کے در سے آيا تھا
اک اجنبي سے يہ کيسا ہے درد کا رشتہ
ہمارے شہر ميں وہ کس نگر سے آيا تھا
وہ اب ہے ديدہ بے خواب کي طرح ويراں
نظر ميں خواب سجا کر جو گھر سے آيا تھا
سنا رہا تھا وہ روداد اعتبار بہار
ابھي جو ٹوٹ کے پتا شجر سےآيا تھا
|