|
راستہ پھر کہيں گيا بھي نہيں
اور وہ منظر کبھي بنا بھي نہيں
دل مہکتا ہے اپني خوشبو سے
ويسے يہ گل کبھي کھلا بھي نہيں
کيا کہوں کيسے زندگي کاٹی
ميں جو رويا نہيں ہنسا بھي نہيں
کتنے موسم گزر گئے مجھ پر
دل کھلا بھي نہيں بجھا بھي نہيں
اپنے دل ميں نہيں تھا کھوٹ کوئي
پر يہ سکہ کہيں چلا بھي نہيں
کچھ اداسي ہي سے مزاج ملا
اپنے جيسا کوئي ملا بھي نہيں
|