|
چاندني رات ميں چاند کو ديکھ کر تم ياد
آئے
تمہيں بھولنا بہت چاہا مگر اور زيادہ ياد آئے
ہوا کے جھونکے ، ستاروں کا جھرمٹ، چاند
کي روشني
يہ دلکش منظر ديکھ کر دل کو پھر تم ياد آئے
وہ پھول يادوں کا دے کہ مجھکو کہاں چل
ديئے
اسي ياد کو ياد کر کے کے صنم تم مجھے ياد آئے
تيري ياد میں دل تڑپتا رہا، مچلتا رہا
اور بہکتا رہا
ہر ايک لمحہ يادوں ميں پل پل تم ياد آئے
تجھ کر پانے کي سوچ اور تيرے بچھڑ جانے
کا ڈر
اسي بے بسي کے عالم ميں تم کيوں ياد آئے
|