جب درد کي جھانجر بجتي ہو
رگ رگ ميں زہر اترتا ہو
جب چاندني سر بکھراتي ہو
اور دل پہلو ميں مچلتا ہو
تم ديکھنا خواہش کي دھن پر
دل رقص ميں کيسے ڈھلتا ہے
تم ديکھنا آنگن کا تارا
آنکھوں ميں کيسے اترتا ہے
تم سوچنا گندے جو ہڑ ميں
پاني، کيچڑ اور کائي ميں
جو پھول کنول کا کھلتا ہے
وہ جو ہڑ کي ہر پستي کو
آکاش سمان بناتا ہے
تب سوچنا کہ اب ہم تم بھي
اک پھول کنول کا بن جائيں
پھر بھول کر اپنے جھگڑوں کو
دنيا ميں روشني بکھرائيں
دنيا کے گندے جوہڑ ميں
پاني، کيچڑ اور کائي ميں
ہم پھول کنول کا بن کے کھليں
اور دنيا کي ہر پستي کو
آکاش سمان بنا ڈاليں |