عمر کو بڑھنے سے روکا نہيں جاسکتا ہے،
يہ ايک ايسي چيز ناگزير حقيقت ہے جسے ہم سب کو تسليم کرنا ہي پڑتا ہے، ليکن يہ
قطعي درست رويہ نہيں کہ ہم اپني خوبصورتي، توانائي اور صحت ميں آنے والي ہر کمي
کو بڑھتي عمر سے منسوب کرديں، خشک ہوتي اور ڈھلتي جلد، کمزور اور گرتے بال،
رنگت ميں زردي، آنکھوں کے نيچے حلقے اور موٹاپے کي طرف مائل جسم سميت کئي ديگر
مسائل عموما ہماري اپني غفلت کا نتيجہ ہوتے ہيں، اگر ہم اپني عمر کے ساتھ جسم
سميت کئي ديگر تبديليوں اور ا سکے بدلتے تقاضوں پر بھي نظر رکھيں، تو نہ صرف
ہم، اپني اصل عمر سے 10 سال پيچھے نظر آئيں گے بلکہ ہماري صحت بھي قابل رشک حد
تک اچھي ہوگي۔
جيسا کہ ہم سب جانتے ہيں، کہ ہميں صحت مند، خوبصورت اور چاق و صوبند رکھنے ميں
غزا اور ورزش کا برا ہاتھ ہوتا ہے، چناچہ ہميں سب سے پہلے انہي چيزوں پر توجہ
ديني ہوگي، اور اسکا آغاز اگرچہ پيدائش کے پہلے دن سے ہي کيا جانا چاہئے تم ہم
20 سال کي عمر کے بعد خاص طور پر آپ کو اپنا طرز زندگي اس طرح کا رکھنا چاہئيے
جو مستقبل ميں آپ کيلئے فائدہ مند ثابت ہو، ہم يہاں آپ کو ان اہم باتوں کے بارے
ميں آگاہ کريں گے، جس سے زندگي کي مختلف دہائيوں ميں ہم سب کا واسطہ پڑتا ہے،
تاکہ ہآپ ہر دہائي کو اس کے بدلتے تقاضوں کے مطابق بسر کريں۔
بيس سال اور آپ۔ يہ وہ عمر ہے جہاں خوبصورتي کيلئے عام طور پر مصنوعي سہاروں
کي ضرورت نہيں ہوتي، آپ کي جلد روشن اور پر کشش ہے ليکن پھر بھي اگر دھوپ وغيرہ
ميں باہر نکليں تو دھوپ سے بچائو کيلئے چشمہ اور کوئي اچھي سي کريم لگا ليں، دن
دو بار برش کريں اور زيادہ پاني پئيں اور بھر پور نيند ليں۔ آپ کي جسماني حالت۔ اس وقت آپ کا جسم اپني زندگي کے خوبصورت ترين دور ميں داخل ہورہا ہے، آپ
کے اعصاب اور اعظا کي مضبوطي اپنے عروج پر ہے۔
آپ ے پھيپڑوں ميں سانس لينے کي گنجائش بھي زيادہ ہوتي ہے، آپ چاہيں تو بس پر
بھاگ کر بھي سوار ہوسکتي ہيں، لين بہتر ہے کہ اس طرح کے خطرات مول نہ ليں۔
جسم پر چربي کي مقدار ميں اضافہ ہونا شروع ہوجاتا ہے، اگر آپ نے اس پر توجہ
نہيں دي تو 25 سال کو پہنچنے تک يہ کئي گناہ بڑھ سکتي ہے۔
جسم ميں چربي جمع ہونے کا مطلب يہ ہے کہ آپ کا کوليسٹرول بھي آہستہ آہستہ
بڑھ رہا ہے، اور آپ دل کے دورہ کے خطرات کي طرف جارہي ہيں۔
بلاشبہ اس وقت آپ کا مداقتي نظام عروج پر ہوتا ہے، ليکن يہ بات ياد رکھيں، کہ
عفوان شباب گزرتے ہي جسم کے مدافتعي نظام ميں کمي آنا شروع ہوجاتي ہے، کيونکہ
تھائمس گلينڈ آہستہ آہستہ گرنے لگتے ہيں جس کے باعث مدافعتي نظام بھي متاثر
ہوتا ہے۔ کيا کرنا چاہئيے۔ ماہرين صحت کا خيال ہےکہ ايک دن ميں 1200 کيلشيم ضرور لينے چاہئيے يا
درہے کہ دودھ کيلشيم کا بہترين ذريعہ ہے، اس کے علاوہ اسي ورزشيں کريں کہ وزن
نہ بڑھنے پائ اور آ کي ہڈياں مضبوط رہيں۔
ايروبک ورزش رسي پھلانگنا وغيرہ خاص طور پر بہت اہم ہيں، اس نے صرف آپ کے پٹھے
مضبوط رہتے ہيں بلکہ امراض قلب کے خطرات بھي کم سے کم رہے جاتے ہيں۔
بلڈ پريشر اور کوليسٹرول چيک کرانا نہ بھوليں تاکہ آپ زيادہ اعتماد سے اگلي
دہائي ميں قدم رکھ سکھيں بصورت ديگر آگے چل کر خطرات کے امکانات بڑھنے لگتے
ہيں۔