تيس سال اور آپ۔ اگر آپ تين چار بچوں کي ماں نہيں بني يا کسي غير متوقع صدمے نے آپ کو
متاثر نہيں کيا تو يہ کہا جاسکتا ہے کہ جلد کي چمک و خوبصورتي بدستور قائم ہوگي
ليکن اب آپ کو ہوشيار رہنا پڑے گا۔
چربيلے غدود اچھي خاصي تعداد ميں تيل خارج کرتے ہيں۔
ازدواجي معاملات ميں درست رہيتے ہيں۔
کچھ خواتين کو چہرے پر ايک بار پھل کيل وغيرہ نکلنا شروع ہوجاتے ہيں تاہم زيادہ
تر ان سے محفوظ رہتي ہيں۔
اگر بالوں کا خيال رکھا گيا ہو تو بدستور صحت مند اور چمکدار رہتے ہيں، ليکن
ہوسکتا ہے اس عرصے ميں دو تين سفيد بال بھي آپ کو دکھائي دينے لگے۔ کيا کرنا چاہئے۔ دھوپ ميں نکلنے سے پہلے دھوپ کا چشمہ لگانا نہ بھوليں، کلينز جيل کا
استعمال کريں۔
اگر مناسب ہوتو آئل فري مئسچرانزگ بہتر رہے گي، کسي اچھے بيوٹی پارلر سے مختلف
ماسکس اور اسکربنگ کروائيں۔
ميک اپ کيلئے اچھي اور معياري کمپني کي مصنوعات استعمال کريں۔
اپنے بالوں کو بھي دھوپ کي تپش سے بچائيں، اينٹي الٹرا وائلٹ مصنوعات بہتر
رہيں، آزمائے ہوئے اور بہتر نتائج کے حامل شيمپو استعمال کريں۔ آپ کي جمساني حالت۔ تيس سال کے بعد ہڈيوں ميں سالانہ ايک في صد کمزوري واقع ہونا شروع
ہوجاتي ہے، آپ سمجھ ليں کہ آپ کي ہڈياں کمزور ہونا شروع ہوگئيں۔
آپ کے جسم پر چربي بڑھنے کي رفتار ميں مزيد تيزي آرہي ہے، چناچہ آپ کو اس
اضافي چربي کا خاص طور پر دھيان رکھنا ہوگا، بلکہ اس کيلئے عملي طور پر کوشيش
بھي کرنا ہوگي۔
عضلات کي کارکردگي بھي کم ہوجائے گي، چلتي بس کو پکڑنا آپ کيلئے مزيد مشکل
ہوجائے گا اگر آپ کا جسم موٹاپے کي جانب گامزن ہے تو 30 سال کے بعد آپ کو اپني
خورارک سے 50 حرارے کم کرنا ہوگام اچھي قسم کے چاکليٹ آپ کو نقصان نہيں
پہنچائيں گے۔
کوليسٹرول کے بڑھنے کي رفتار بھي جاري ہے، يہ ذہن ميں رکھيں کہ دل کے دورہ کے
خطرات بھي مسلسل بڑھتے جارہے ہيں۔ کيا کرنا چاہئيے۔ روزانہ 1200 ملي گرام کيلشئيم جاري رکھيں، کمزور ہوتے عضلات اور ہڈيوں
کي مضبوطي کيلئے ورزش کا سلسلہ منقطع نہ کريں۔
ايروبک ورزشيں کي جائيں تو اور زيادہ بہتر نتائج مل سکتے ہيں، ہفتے ميں تين سے
پانچ دن آدھے گھنٹے کي ورزش کافي ہے، ورزش جاري رکھنے سے امراض قلب کا خطرہ کم
سے کم ہوجائےگا۔
ورزش کرنے سے پہلے کم از کم پانچ منٹ تک خود کو وارم اپ کرليا کريں، اپني
جسماني لچک کو برقرار رکھنے کيلئے ورزش کا مناسب ہونا ضروري ہے، بے ربط کھينچا
چاني سے گريز کريں۔
دو تين ماہ بعد اپنا بلڈ پريشر اور کوليسٹرول ليول چيک کراتے رہيں۔
اپني خوراک پر بھي دھيان ديں، خاص طور پر چکنائي کي مقدار پر، اپني غذا کے
مجموعي حراروں کا صرف 30 فيصد حصہ چکنائي سے حاصل کريں، پھل اور سبزياں جتني
زيادہ کھائيں۔