بچوں کي نگہداشت۔بچوں کي ورزش، بچے
کھانا کيوں نہيں کھاتے وغيرہ۔
بچوں کو
با اعتماد کيسے بنايا جائے؟
بچوں کو
بااعتماد کيسا بنايا جائے اور بچے کي تربيت ميں والدين کو کيا کردار ادا
کرنا چاھئيے، تاکہ بچہ کل کو بڑا ہو کر ذمہ دار شہري بن سکتا ہے، ماں، باپ
دونوں مل کر بچے کو وقت ديں۔
والدين اور بچوں کے درميان اعتماد اک خاندان کو قريب لانے ميں سب سے اہم
عنصر ہے، اعتماد ابتدائي برسوں ميں شروع ہوجاتا ہے، اس کي بنياد باہمي
احترام، مصالحت اور والدين کي اس قابليت پر کہ وہ بچوں کے نقطہ نگاہ سے
ديکھيں، والدين اعتماد کے بارے ميں شايد اس وقت تک نہيں سوچتے جب تک وہ ٹوٹ
نہيں جاتا مثلا جب بچہ جھوٹ بولتا ہے ايسے کام کرتا ہے، جن کي والدين کو
خبر تک نہيں ہوتي جيسے چھپ کر سگريٹ نوشي کرنا وغيرہ اکثر والدين کو جيسے
جيسے بچے بڑے ہونے لگتے ہيں، ان سے رابطے ميں مشکلات پيش آتي ہے اور وہ ان
بچوں کے طرز عمل کے بارے ميں خود بے بس محسوس کرنے لگتے ہيں۔
بد قسمتي سے جو چيز والدين کو بچوں سے رابطے ميں رکاوٹ بنتي ہے وہ يہ ہے کہ
والدين اکثر اپنے بچوں کے احساسات کو سمجھ نہيں پاتے جب ايسا ہوتا ہےتو
والدين کا رد عمل تنقيدي ہوجاتا ہے، جس سے ان کا بچہ يہ محسوس کرتا
ہے کہ وہ اس پر طنز يا تنقيد کر رہے ہيں، بچے اپنے والدين ميں اپني شناخت
کو ديکھتے ہيں اور جو کچھ وہ ان کے بارے ميں کہتے ہيں اس پر يقين کرتے ہيں
اگر والدين ان پر ضرورت سے زيادہ نکتہ چيني کرتے ہيں تو بچے اسے اپني توہين
سمجھتے ہيں اور والدين پر سے انکا اعتماد اٹھ جاتا ہے جبکہ اعتماد کے بغير
قربت اور باہمي رابطہ ممکن نہيں ہوتا، بعض بچوں کو تو اتنا موقع نہيں ملتا
کہ وہ چھوٹي سے چھوٹی خواہشات کو اپني مرضي کے مطابق کرسکيں، جيسے
کون سے کپڑے پہنيں؟ کيا کھائيں يا وہ اپنا وقت کيسے گزاريں؟ ايسے رويے کا
مظاہرہ کرتے ہيں، کہ ميں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔