بچوں کي نگہداشت۔بچوں کي ورزش، بچے
کھانا کيوں نہيں کھاتے وغيرہ۔
بچوں کا اعتماد حاصل کرنے کيلئے
والدين بچوں کے دوست بنيں يعني اولاد کو محض اولاد نہ سمجھ کر صرف ڈانٹ
پھنکار طعن کرے بلکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق بچوں سے دوستوں کي طرح
سلوک کريں، ابتدا سے بچوں کے ساتھ تعلقات دوستانہ رکھيں تاکہ وہ بلا جھجک
اپنے مسائل آپ کو بتائيں کچي عمر ميں جب لڑکے اور لڑکيوں کے بھٹکنے کے
امکانات زيادہ ہوتےہيں اس وقت ماں باپ کي ذرا سي لاپرواہي ي ابے جا سختي
اولاد کيلئے پريشاني کا باعث بن سکتي ہے، اس لئے ضروري ہے کہ شروع ہي سے
بچوں کي تربيت ميں اس طرح کريں کہ وہ نہ صرف اپنے مسائل آپ کو بتائيں بلکہ
انہيں والدين کا اعتماد بھي حاصل ہو۔
بچوںکو اپنے ساتھ ہر کام ميں اور باتوں ميں اس طرح شريک
رکھيں کہ جيسے واقعي انہيں بہت اہميت دي جارہي ہے، وہ اس گھر کا اہم حصہ
ہيں، اگر شروع ہي سے بچوںکو ان کي اپني اہميت گھر کي اہميت اور مل جل کر
رہنے کي اہميت سے وقتا فو وقتا آگاہ کرديا جائے تو يہ خود آپ کے گھر اور
خود آپ کيلئے فائدہ مند ہيں، ابتدا سے ہي بچوں ميں احساس ذمہ داري پيدا
کريں انہيں بڑوں کا احترام کرنا سکھائيں، آپ بچے کو بحيشت مسلمان اور
بحيثيت انسان خوب تر بنائيں۔
باپ اور بيٹے ميں جتني دوستي ہوگي، اتنہا ہي دونوں اپنے مسائل آساني سے حل
کرسکتے ہيں خصوصا نو عمر لڑکوں کو باپ کي رہنمائي کي بہت ضرورت ہوتي ہے،
اگر شروع ہي سے باپ بيٹا ميں دوستي ہوگي تو بيٹا اپنے مسائل با آساني باپ
کو بتا سکے گا باپ بيٹے کي تربيت اس طرح کريں کہ وہ مسائل کو سمجھ کر
اسے مزيد گھمبير نہ بناديں بلکہ حل کرنے ميں ان کي مدد کريں، باپ بيٹے کي
دوستي سے بيٹے کا اعتماد حاصل کيا جاسکتا ہے۔
اسي طرح ماں اور بيٹي کي دوستي لڑکيوں کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہيں،
خصوصا بڑي ہوتي ہوئي لڑکيوں کو درپيش مسائل مائيں بہتر طريقے سے حل کرسکتي
ہيں، بلاشبہ مائيں بيٹيوں کيلئے فرشتہ رحمت ہيں، وہ انہيں زمانے کي اونچ
نيچ اور سردگرم سے بچنے کي تراکيب بتاتي ہيں، مائيں بچپن ميں اسے اموار
خانہ داري کا شوق دلاتي ہيں، مہمان داري دعتوں کا اہتمام کرنا، تيمارداري
کرنا سکھاتي ہيں، اخلاق کے معاملے ميں بيٹيوں کو محبت، شفقت انا اور
خودداري کا پيکر بناتي ہيں، مائيں بيٹيعںکا اعتماد حاصل کرنے کيلئے ان سے
دوستي کا رشتہ قائم کريں تو يہ نہ صرف مائوں کيلئے بلکہ بيٹيوں کيلئے بھي
کسي انعام سے کم نہيں۔
ماں باپ کے آپس کے خوشگوار تعلقات سے بچوں پر بھي پڑتے ہيں اگر والدين کے
آپس کے تعلقات اچھے ہوں اور وہ بچوں کے ساتھ بھي دوستانہ رويہ رکھيں تو
پورا گھرانہ خوشيوں کا مظہر بن جاتا ہے۔