Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children









بچوں کي نگہداشت۔
بچوں کي ورزش، بچے کھانا کيوں نہيں کھاتے وغيرہ۔
بچوں کي تربيت ميں ماں باپ کا کيا کردار ہونا چائيے؟
 ايک وقت وہ بھي تھا جب بچوں کوبچہ ہي سمجھا جاتا تھا، کئي نسلوں تک بچے روزانہ چھ گھنٹوں کيلئے اسکول جاتے جسم اور دماغ کو فعال رکہنے کيلئے کوئي کھيل کھيلتے يا مشغلہخيتار کر ليتے اور باقي  وقت کھيل کود ميں گزار ديتے۔
تاہم گذشتہ چند برسوں ميں سب کچھ تبديل ہوگيا، اکيسويں صدي کے آغاز کے بعد بچوں کي طرز زندگي ميں عجيب سي تبديلي رونما ہورہي ہے، بچپن کے بے فکري کے ادارے کو رفتہ رفتہ بلوغث کي ترتيب کے ادارے ميں بدل ديا گيا، پہلے شير خوار بچے تعليمي اداروں سے برسوں دور رہا کرتے تھے ليکن انہيں اب نرسري اسکولوں ميں مقيد کردياگيا، اسکول جانے کي عمر سے قبل کے بچے کھيل کود ميں وقت صرف کيا کرتے تھے ليکن اب ان کے ہاتھوں ميں فليش کارڈز، تعليمي سي ڈيرومز اور دوسارے آلات تہمادئيے گئے ہيں جن کے ذريعے انہيں لکھنا، پڑھنا اور دوسري زبانيں سکھائي جانے لگيں اسکلو جانے والے بچے اسکولوں مين زيادہ وقت گزارنے لگے ہيں اور باقي وقت گھر ميں بيٹھ کر ہوم ورک کرنے ميں جو بچے پہلے بچوں کي طرہ وقت گزارتے تھے اب ان کے ہاتھوں ميں نصاب تعليم ہے، جو بچے اپني توانائي بھاگ دوڑ ميں صرف کرتے تھے اب انہيں شہد کي مکھيوں کي طرح کسي مقصد کي تلاش ميں سرگردان کرديا گيا ہے۔
ابتدائي عمر ہي سے بچوںکو جدو جہد ميں دالنے کے ذمہ دار والدين ہوتے ہيں، ان کے ذہنوں ميں يہ بات بيٹھ گئي ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو پرفيکٹ بناسکتے تو کم سے کم انہيں اس آئيڈيل کے قريب ترين لاسکتے ہيں۔
والدين کو بھي اپني ابتدائي ذمہداريوں کا زيادہ احساہ ہوگيا ہے وہ بچوںکے سلسلسے ميں اپنے آپ کو خطا کار سمجھنے لگے ہيں اگر چہ مرد بھي بچوں کي پرورش  ميں زيادہ ذمہ دارياں سنبھالنے لگے ہيں ليکن اس کے باوجود اب بھي زيادہ ذمہ داريوں کا بوجھ ماں کے کندھوں پر ہي ہے مہنگائي کے موجودہ دور ميں گھر کو چلانا کيلئے شوھر اور بيوي کو ملازمتيں کرنا پڑتي ہيں اس لئے ماں اپنے بچوں پر اتنا وقت صرف نہيں کرپاتي جتنا وہ چاہتي ہے۔
بوسٹن کے بچوں کے اسپتال کے ڈاکٹر جوسہوا کہتے ہيں والدين اپنے آپ کو بہت قصور وار سمجھتے ہيں کہ کيونکہ وہ کم سے کم وقت ميں بچوں کو دے رہے ہيں، جب والدين کےپاس وقت ہوتا ہےتو وہ بچوں کي ذہانت کے پروان چڑہنے کا انتظار کرسکتے ہيں ليکن جب انکو وقت کي تنگي کے دباؤ کا سمان کرنا پڑتا ہے تو وہ چاہتے ہيں کہ بچے جلد سے جلد اپني ذہانت بڑھانا شروع کرديں۔
اس ماحول مين بيشتر دکان دار اور سيلزمين ان پريشان حال والدين کو سونے کي چڑيا سمجھ کران سے فائدہ اٹھانے کي فکر ميں لگے رہتے ہيں، ان کے اسٹورز ميں نئي سے نئي مصنوعات شيلف کي زينت بننے لگي ہے جن کيمدد سے بچوں کي ذہانت کو بڑھاواديا جاسکے جس کيلئے والدين کے پاس وقت نہيں ہے، مثلابے بي مزارٹ ٹيپ، کي مدد سے بچوں کے اندر دلائل دينے کي صفت پيدا کي کاسکتي ہے اور موسيقي اور فنکارانہ صلاحتيوں کو اجاگر کيا جاتا ہے سياہ، سفيد سرخ تصاوير کي کتابين ہيں جن کے ذريعے بچوں کي بصري صلاحيتوں ميں اضافہ کيا جاسکتا ہے دو زبانوں کو زيادہ آساني سے ذہن ميں محفوظ کرسکتے ہيں اب تو نوبت يہاں تک آنپہنچي ہے کہ بچے کو اس جگہ بھي سکون سے نہيں رہنے ديا جاتا جہاں انسان کي پہنچ ناممکن خیال کي جاتي ہے يعني ماں کے پيت ميں ايسے لائوڈ اسپيکر ڈيزائن کرلئيے گئے ہيں جنہيں ہاتھوں ميں پکڑ کر پيٹ سے لگا ديا جاتا ہے پيٹ کے اندر بھي بچے کو موسيقي اور آوازيں سنائي جاسکيں تاکہ نوزائيدہ بچے کے ذہن کو محرک کيا جاسکے اور وہ اس قابل ہوسکے کہ پيدا ہونے کے بعد والدين کي توقعات کو پورا کرسکے جو والدين ان مصنوعات سے فائدہ اٹھاتے ہيں موردلزام ٹہراجاتے ہيں کہ وہ اپنے بچےکو تباہي کي طرف لے جارہے ہيں انسے کہا جاا ہے کہ بعض خصوصي ہنر سيکھنے اور اسے محفوظ رکھنے کيلئے بچے کے دماگ کي صلاحيت بہت محدود ہے ، آپ انہيں بند کرديں گے تو بچہ ہميشہ کيلئے کن ذہن اور ناکاہ ہوجائے گا۔
ليکن سوال يہ ہے کہ ان باتوں ميں کتني سچائي ہے؟ کيا يہ ممکن ہے ايک عام سے بچے کو غير معمولي ذہين بنايا جاسکتا ہے اور اگر ايسا ممکن  ہے ہو بھي تو کيا ايس کوشش فائدہ مند ثابت ہوگي، کيا يہ طريقہ بہتر نہيں کہ بچپن کے دور سے ہنستے کھيلتے گزرنے ديں، انہيں اپني غلطيوں سے کچھ سيکھنے ديں، اس حقيقت کو تسليم کرليں کہ ہر بچہ غير معمولي ذہين نہين ہوسکتا يا يہ بہتر ہے کہ والدين تمام بچوں کو سپر بچے بنانے کي کوشش کرتے رہے يہ جانتے ہوئے بھي کہ وہ بچوں کي ساري صلاحيتوں کو ختم کيے ذے رہے ہيں اور ان پر ضرورت سے زيادہ بوجھ ڈال رہے ہيں؟ بہت سے والدين ان ہي الجھنون ميں گرفتار ہيں ايک ماہر اطفال کا کہنا  ہے کہ بڑے حد تک والدين اپني خود اعتم ادي اور فيصلے کرنے کي صلاحيت کھو چکے ہيں۔
تاہم بچوں کي تربيت کے ماہرين کا خيال ہےکہ ان جامد آلات کے مقابلے ميں سوشل اور جذباتي سرگرميان زيادہ موثر ہوتي ہيں جسيے بچوں سے گفتگو کرنا انہيں کہانياں پڑہ کر سنانا ، يہ ماہرين اس بات پر متفق ہيں کہ بچوں کي ذہني صلاحيتون کو بيدار کرنے کيلئے چرف ايک ہي شے ضروري ہے زور وہ ہے والدين اور بچوں کے درميان پائيدار ريليشن شپ کو تحفظ کا احساس ہو اور وہ والدين پر اعتماد کرسکے، بچوں کے ساتھ پيار و محبت اور کھيل کود ميں قوت گزارنے سے ان کي عزت کرتے ہيں اور اسي رشتے پر بچے کي نشونما کا انحصار ہے، ہم نے معاشرتي اور جذباتي رضتوں کو پس پردھ ڈال ديا ہے اور يہ بات بچوں اور معاشرہ کو زبردست نقصان پہنچانے کا باعث ہے۔
مصنوعي طريقے سے بچوں کے آئي کيو کو بڑہانے کي کوشس مين ان کے ذہن پر دباؤ بڑہ جاتا ہے کيونکہ والدين کي پريشاني سے بچوں پر منفي اثر پڑتا ہے، چار يا پانچ سال کي عمر تک پہنچ جانے کے بعد دباؤ کے شکار بچوں کے ذہن بري طرح متاثر ہوجاتے ہيں اور وھ دباؤ کے شکار بالغوں کے ذہن کي مانند ہوجاتے ہيں غدودي رطوبت اور کارٹي سون کي مقدار بڑہ جاتي ہے يہ کيمائي اجزا جسم کے اندر جنگ کرنے يا بھاگ جانے کے عمل کو تيز کرديتے ہيں۔
اگر بچوں کے ذہون کو عرصے تک دباؤ کا شکار رکھا گيا تو يہ تبديليں مستقل  ہوجاتي ہيں اور بڑے ہونے کے بعد ان بچوں کا حافظہ کمزور ہو جاتا ہے، اور ياد کرنے کا عمل سست بڑجاتا ہے۔
تاہم حقيققت تو يہ ہے کہ بچوں کو دباؤ محسوس ہي نہيں کرنا چاھئيے اور نہ ہي والدين کو مصنو عات بانانے والوں کا يہ کہنا درست ہے کگ شير خوار بچے کا ذہن تيزي سے تبديلي کے عملي سے گزرتا ہے دماغ ميں پيدا ہونے والي تبديلياں موثر رہتي ہيں اور پھر اس کے بعد يہ عمل رک جاتا ہے اور دماغ يہ فيصلہ کرتا ہے کہ ان ميں سے کس کو رکھنا ہے، کون سے نئے نيو رونز کي اس کو ضرورت ہے اور کن کے بغير وہ گزارا کرسکتا ہے اس عرصہ کے دوران ضروري ہے کہ اس کو ضرورت ہے کہ بے بي کوصيح قسم کي محرکات ملتي رہيں تاکہ ان کے دماغ درست فيصلے کرسکيں تاہم ضروري نہیں کہ درست قسم کے محرکات وہي ہوں جو والدين سمجھتے ہيں۔
ايک حاليہ مشاہدے کے دوران يہ سوال کيا کگيا کہ اسکول ميں داخل کرانے کيلئے بچوں کو کس قسم کي تياري کرانا چاھئيے کچھ والدين نے عام سا جواب ديا يعني گنتي آناچاھئيے، حروف، رنگوں اور شکلون کي پہچان ہو، ليکن اساتذہ اس سے اختلاف کرتے ہوئے ان کے مطابق بچوں ميں سوشل باتوں کي پہچان زيادہ ضروري ہے، مثلا دوسروں کے ساتھ حصہ داريکرنا دوسروں کے ساتھ ہم آہنگي کنرا اور اساتذہ کے احکامات کي پيروي کرنا بظاہر نظر نہ آنے والي خصوصيات کے بچے اسکول ميں  داخل  ہونے کے بعد پڑھنے لکھنے اور دوسرے معاملات ميں بھي ھميشہ دوسرے بچوں پر سبقت لے جاتے ہيں ، ذہانت کي بيناد جذباتي موزينيت پر ہے، جذباتي ذہانت سب باتوں پر حاوي ہے۔
مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ جن بچوں کي مناسب طريقہ کار سے پرورش نہيں کي جاتي بڑے ہونے کے بعد ان ميں اوراک کي کمي واقع ہو جاتے ہے، تاہم ہم اس بات کا بھي ثبوت نہيں ملا کہ جن بچوں کو بھر پور توجہ دي گئي اور ان کے اندر محرکات پيا کئيے گئے ان کي ذہني افزائش بڑہ گئي ہو۔
ايک نظرئيے کے مطابق محدود دورانيے کے اندر دماغ کے مختلف حصوں کو مختلف قسم کے ہنر سکھائے جاسکتے ہيں۔ جہاں تک زبان کے ديکھنے کا تعلق ہےتو اس کيلئےذہن ميں موزونيت اور ناموزنيت کے ادوار پيدا ہوتے رہتے ہيں، پيدائش کے وقت بچے کے اندر صلاحيت ہوتي ہے کہ وہ کوئي بھي زبان آساني سے  سيکھ سکتا ہے ليکن چھ ماہ کي عمر تک پہنچ جانے کے بعد وہ اپني ساري توجہ صرف اس ايک زبان کو سيکہنے کيلئےس مرکوز کرديتا ہے جو اس کے سامنے سب سے زيادہ بولي جاتي ہے۔
اس ذہني لچک سے والدين فائدہ اٹھا سکتے ہيں اور بچے کو دوسري اور تيسري زان سے بھي متعارف کرا سکتے ہيں ليکن شرط يہ ہے کہ وہ تينوں زبانوں کو يکساں  رواني سے بولتے رہيں يہاں تک کہ بچے نان پر عبور حاصل کرليں، دو زبانوں والے کھلونے  يا وڈيوں ٹیپ خيردنے سے بچہ کچھ سيکھ پائے گا اور ايسے بچے جب اسکول ميں داخل ہوں گےتو يہ کھلونے ان کي کوئي مدد نہيں کرسکيں گے۔
جہاں تک دوسرے ہنر کا تعلق ہے جيسے حساب يا موسيقي تو اس بات کا کوئي ثبوت نہيں ملتا کہ بچے کے ذہن ميں انہيں ياد کرنے کيلئے کوئي کھڑکي کھلي ہوئي ہے، بچے مختلف ہنر مختلف رفتار سے سيکھتے ہيں، جن والدين کے بچے تين برس کي عمر ميں کتاب پڑہنے لگيں تو انہين لطمئن ہوجانا چاہئيے کہ انہوں نے بچے کي بالکل صيح تربيت کي ہے ليکن حقيقت تو يہ ہے کہ وہ اس معاملے ميں خوش قسمت اور ان کے بچے اعلي ذہانت نے بہت کم عمر ميں ايک ہنر سيکھ ليا ہے۔
لہذا اگر والدين ذہني محرکات کے کھلونوں کو دور کر رہے ہيں تو پھر وہکون سي شے قريب لا رہے ہيں؟ اس کا جواب ہے کہ اپنے بچوں کو اگر والدين اور بچے کے درميان ذہني ربط قائم ہے تو وہ آساني سے اندازہ لگا سکتے ہيں کہ ان کا بچہ اسکول ميں کيسا رہےگا؟
تجربات اس بات کے شاہد ہيںؤ کہ دو ماہ ي عمر کو پہنچ کر بچہ والدين کے چہروں کي پچيدہ زبان پڑھنے لگتا ہے اور ان کي مدد سے وہ اپنے سارے کام نکال ليتا ہے، انساني چہرے کو غور سے ديکھيں، چہرے پر پڑي جھرياں ، آنکھوں کے تاثرات، ديکھيں اور سوچيں کہ بچہ کے ذہن کو ان چيزوں سے کيسے تحريک مل جاتي ہے، بہترين ويڈيوں گيمز اور کھلونے بھي وہ کچھ نہيں سکھا سکتے جو والدين کي گود اور ان کے تاثرات اسے سکھاتے ہيں۔
ليکن کيا اسکا مطلب يہ ہے کہ تعليمي کھولنے سب بے کار ہيں؟ نہيں کيونکہ بچے بھي ان ميں اتني ہي دلچسپي ليتے ہيں جتني بالغ، کتابيں، فليش کارڈز، خصوصا سياہ، سفيد اور سرخ رنگ کے ذريعے وہ اپني صلاحيت کو جلا بخش سکتے ہيں اور بلا شبہ يہ کھلونے بچوں کو کچھ سکھانے کا ايک ذريعہ ہيں بچوں کو موسيقي سے ويسا ہي سکون ملتا ہے جيسا والدين کو، اس کے باوجود يہ مصنوعات چرف ايک حد تک بچے کو فائدہ پہنچاتي ہے اور بچوں کے جذبات کو چمجہنے والے واليدن بہت جلد يہ نکتہ سيکھ جاتے ہيں۔
والدين کيلے بچے کي تعليمي صلاحيت ہي کافي نہيں بلکہ انہيں اس کے اندر عزم اور حوصلہ پيدا کرنے کي ضرورت ہے، بچوں کا اپنا مستقبل خود منتخب کرنے کا خطرہ مول لينا چاہئيے ان ميں سے بعض ناکم بھي ہوں گے ليکن والدين کا اپني زير نگراني انہيں دوسرا اور تيسرا موقع فراہم کرتے رہنا چاہئيے کسي نہ کسي مقوع پر وہ ضرور کاميابي حاضل کرليں گے۔   
           


 
New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu