چھائيوں کي وجہ سے جلد کے رنگ ميں ايک طرح کا
فرق آجاتا ہے، جلد پر گہرے کتھئي يا سياہ رنگ کے دھبے بن جاتے ھيں، جلد کا رنگ
کبھي ہلکا تو کبھي گہرا ہوجاتا ہے، داگ کا سائز بھي گھٹتا بڑھتا رہتا ہے،
جلد ميں آئے ہوئے اس فرق کو چھائياں پلمينيٹشن کہتے ھيں، چھائيوں کي وجہ
سے جلد کي سطح پر کوئي اثر نہيں پڑتا۔
چھائياں پيدا ہونے کي وجوہات۔
جلد کے اينڈو کرائين غدود ميں بے قاعدگي آنا، جگر کي خرابي،حمل، مينو پاز، ايميباسس، دل کي بيماري، ليکوريا، خون کي کمي،
قبض، لمبي بيماري، پيٹ ميں کيڑے، جسم ميں وٹامن اے، اي، کي کمي ہونا وغيرہ
وجوہات سے چھائيوں کا مسئلہ پيدا ہوجاتاہے، چڑ چڑا پن ذہني تناؤ، بہت
زيادہ پريشاني وغيرہ وجوہات سے بھي چھائيوں کا مسئلہ پيدا ہوجاتا ہے، شراب،
تمباکو نوشي، لمبے عرصے تک دوائيوں کا استعمال، نيند کي گوليوں کا استعمال بھي
چھائيوں کے مسئلے کي وجہ بن سکتا ہے، بہت زيادہ گہرا ميک اپ، بار بار بليچ
کروانا تيز دھوپ ميں زيادہ گھومنا، سستے اور تيز کيميکل اجزاء والي کاسميٹکس کا
استعمال کرنا، روج، فاؤنڈيشن، ھئير ڈارئي کا باقاعدہ استعمال کرنے سے بھي چہرے
پر چھائيوں کا مسئلہ پيدا ہوجاتا ہے۔
ان باتوں پر توجہ ديں
تيز
دہوپ ميں نکلنے سے بچيں، اگر نکلنا ضروري ہوتو چھتري لے کر نکليں۔ تناؤ سے آزاد رھيں، ھميشہ خوش رھيں کھل کر ھنسيں۔ دير
رات تک نہ جاگيں، بھر پور نيدن ليں صبح جلدي اٹھيں۔ گہرا ميک اپ نہ کريں، رات کو سوتے وقت ميک اپ ضرور اتارديں۔ چہرے پر چھائياں ہونے پر ہئير ڈارئي کا استعمال کرنے والوں کو کچھ عرصے کيلئے
بالوں کو ڈائي کرنا بند کرديانا چاھئيے، چہرے پر چھائياں ہونے پر خون کا ٹيسٹ
کروائيں، خون ميں ھيموگلوبن کي کمي ہونے پر ڈاکڑ کے مشورے سے آئرن کي گوليوں کا
استعمال کريں۔ دن
بھر ميں دس پندرہ گلاس پاني ضرور پئيں، پاني جلد کي خشکي دور کرتا ہے۔ چہرے کي بار بار بليچ نہ کروائيں، زيادہ بليچنگ کرنے سے چھائياں پڑجاتي ھيں، جب
بھي بليچنگ کروائيں تو اس کے بعد فيشل ضرور کروائيں تاکہ بليچنگ کي وجہ سے پيدا
ھوئي خشکي سے اسکن برن جلد کا جل جانا کا مسئلہ پيدا نہ ہو۔ چہرے پر چھائياں ہونے پر بليچ نہيں کروانا چاھئيے، اس سے چھائياں زيادہ بڑھ
جاتي ھيں۔ دوسروں کي کاسميٹکس کا استعمال نہ کريں، اس سے جلد پر انفيکشن ہونے کا خطرہ
رہتا ہے۔
چھائياں دور کرنے کيلئے نسخے۔
آدھ
چمچع شہد ميں چار پانچ بوند سرکہ ملا کر چھائيوں پر لگائيں، شہد ميں
ميگنشئيم، کيلشئيم، بيٹا کيري اوٹيٹک وغيرہ عناصر پائے جاتے ھيں اور سرکہ ميں
پائے جانے والے داغ دھبوں اور چھائيوں کو صاف کرديتے ھيں، يہ نسخہ ہفتے ميں
دوبار استعمال کريں۔ آدھ
چمچع صندل، آدھ ہلدي اور تھوڑا سا کيسر، ان سب کو دودھ ميں ملا کر پيسٹ
بناليں، اسے باقاعدہ طور پر لگانے سے چھائياں مٹ جاتي ہيں، ہلدي ميں موجود
عناصر جلد کو ملائم اور چکنا بناتا ہيں، ہلدي خون صفا اور جراثيم کش بھي ہوتي
ہے، اس ميں پائے جانے والے معدني عناصر مگنيشئيم، کاپر، زنک، جلد پر پيدا
چھائياں کو صاف کرتے ہيں، صندل جلدکو ٹھنڈک عطا کرتے ھيں، کيسر جلد کو ملائم
بناتا ہے، اور رنگت عطا کرتا ہے، اس نسخے کو روزانہ استعمال کرنے سے چھائياں
دور ہو جاتي ھيں اور جلد صاف اور اجلي ہو جاتي ہے۔ ايک
چمچع کھيرے کا رس، ايک چمچع گاجر کا رس، ايک چمچع ٹماٹر کا رس اچھي طرح ملا کر
باقاعدہ طور سے چھائيوں پر لگانے سے چھائياں دور ہو جاتي ھيں، کھيرا، گاجر، اور
ٹماٹر ميں پائے جانےوالے عناصر اچھے بليچ کا کام کرتے ھيں، ان ميں پائے جانے
والا اے ايچ اے، ايلفا ہايڈروکسي ايسڈ نامي عناصر داغ دھبوں اور چھائيوں کو دور
کرتا ہے۔ سنگترے کے خشک چھلکے کا سفوف ايک چمچع، اس ميں ضرورت کے مطابق عرق گلاب ملا کر
پيسٹ بناليں، اسے چھائيوں پر لگائيں، سنگترے ميں وٹامن اے، بي-2 آئرن، فاسفورس،
کاپر، پروٹين، فالک ايسڈ، سوڈيم، کيلشئيم، عناصر مطلوبہ مقدار ميں پائے جاتے
ھيں، سنگترے اور عرق گلاب ميں پائے جانے والے اجزاء چھائيوں کو دور کرتے ھيں
اور جلد کو ملائم نيز پر کشش بناتے ھيں۔ پختہ پپيتے کے سلائس کو چھائيوں پر رگڑنے سے چھائيوں کا مسئلہ حل ہوجاتا
ہے، پپيتے ميں پائے جانے والا اينزائم جلد پر اثر ہو کر دور کرتے ھيں، يہ عناصر
مردہ خلئيوں کو بھي ہتاتے ھيں، اور جلد کو غذائيت بھي فراہم کرتے ھيں،
پپيتے کو مندرجہ بالا طريقے کے مطابق استعمال کرنے سے جلد صاف، خوبصورت اور
ملائم اور بے داغ بنتي ہے۔ ايک
چمچع مولي کے رس ميں آدھ چمچع شہد ملا کر چھائيوں پر لگانے سے چھائياں پرلگانے
دور ہو جاتي ھيں، مولي ميں وٹامن اے، بي، سي، کيلشئيم، فاسفورس، آئرن، وغيرہ
عناصر اور شہد ميں پائے جانے والے اسکروز، گلوکوز، فرکٹون، وغيرہ عناصر چھائيوں
کو دورکرتے ھيں، يہ جلد کے خلئيوں کو توانائي اور غذا بھي ديتے ھيں، اس نسخے کے
باقاعدہ استعمال سے چہرہ خوببصورت ملائم اور کشش انگيز بنتا ہے۔