
خوبصورتي اور آپ۔منہ
اور چہرے کي خوبصورتي۔
پاؤں کي خوبصورتي
پاؤں جسم کا اہم ترين حصہ ھيں، يہ
چلنے اور جسم کا پورا بوجھ اٹھانے اور جسم کا توازن قائم رکھنے کا کام
کرتے ھيں، پاؤں ميں چھبيس ھڈياں، ايک سو چودہ ليگا مينٹ اور اکيس طرح کے پھٹے
ہوتے ھيں، پاؤں کي ھڈيوں ليگا مينٹ اور پٹھوں اس اس کا بندھن اور ڈيزائن اتني
خوبصورتي سے منظم کيا گيا ہے، کہ زندگي بھر چلنے پر بھي ان ميں کوئي خرابي نہيں
آتي، پاؤں کے بارے ميں کي گئي لاپروائي کے باعث پاؤں ميں کئي مسائل پيدا ہو
جاتے ھيں، پاؤں کو تندرست سڈول اور پر کشش بنائے رکھنے کے لئے پاؤں کي
مناسب ديکھ بھال کريں۔
ان باتوں پر توجہ ديں
پاؤں کي تندرستي اور خوبصورتي کے لئے صيح ناپ کا جوتا پہنيں، غلط ناپ
کا جوتا پہننے سے پاؤں ميں کئي طرح کي پريشانياں پيدا ہوجاتي ھيں، تنگ
جوتے پاؤں کي جلد کو سخت بناتے ھيں ايڑھيوں اور نيز انگليوں پر گانٹھيں بناتے
ھيں۔
لگاتا زيادہ دير تک کھڑے رہنے سے پاؤں ميں سوجن آجاتي ہے، ليکن لگاتار
چلنے سے پاؤں کو کوئي نقصان نہيں ھوتا۔
موزے جراب صيح ماپ کے پہنيں، تنگ موزے پہننے سے پنجے اور پٹھے کس جاتے
ھيں، جس سے خون کے دورے ميں رکاوٹ پيدا ہوتي ہے اور پاؤں کي خوبصوتي خراب ہو
جاتي ہے۔
ايک ہي موزے کو کئي دنوں پہننے سے پاؤں ميں انفيکشن ہو جاتي ھے، پاؤں
سے بدبو بھي آنے لگتي ہے، اس لئے روزانہ صاف دھلے ہوئے موزے پہنيں۔
کھڑے ہونے پر دونوں پاؤں پر يکساں زور دے کر کھڑے ہونے سے پاؤں کے
پٹھوں پر زور پڑتا ہے، جس سے پاؤں کي خوبصورتي بگڑ جاتي ہے۔
پاؤں ميں ھميشہ نمي رہنے سے فنگل انفيکشن ہوجاتا ہے جس سے پاؤں کي
انگلياں کو درميان کي جلد سفيد پڑ جاتي ہے، اس ميں خارش اور درد ہونے لگتا ہے،
غسل کے بعد انگليوں کے درمياني حصے کو اچھي طرح صاف کريں، جس سے وہاں نمي نہ رہ
جائے۔
باہر سے لوٹنے کے بعد پاؤں کو پاني سے اچھي طرح دہوليں، جس سے پاؤں پر
جمي، دہول، مٹي اور پسينہ اچھي طرح صاف ہو جائے۔
پيڈي کيور
پيڈي کيور (Pedicure) پاؤں کو صاف کرنے کا طريقہ ہے، اسے ہفتے ميں ايک کيا جائے تو پاؤں صاف ،
خوبصورت اور ملائم بنے رہتے ھيں
سامان
ايک بڑا ٹب، پاؤں کے موزے کے حصے تک ٹب ميں نيم گرم پاني، ايک عدد ليوں، نيل
ريمور، نيل فائل، کيوٹيکل، فٹ سکربرجھانواں روئي ، اورنج سٹک اور توليہ۔
طريقہ۔
پيڈي کيور کرنے
سے پہلے پاؤں پر لگي نيل پالش کو نيل ريور سے صاف کرديں، اس کے بعد نيل فائل سے
ناخنوں کوگھسا کر شکل ديں، نيم گرم پاني ميں ليموں کو نچوڑ ديں، اس پاني ميں
اپنے دونوں پاؤں ڈبوديں اورنج اسٹک سے رگڑ کر ناخنوں ميں پھنسي ھوئي ميل اور
مردہ خلئيوں کو ہلکے ہاتھوں سے پيچہے کي طرف دھکيليں فٹ سکرب يا جھانويں سے
ايڑيوں کو رگڑ کر ان پر جمے مردہ خلئيوں کو اچھي طرح نکال ديں۔
آخر ميں ليموں کے چھلکے کو پاؤں کي جلد اور ناخنوں پر رگڑيں، اس سے جلد اور
ناخن صاف اور چمکدار ہوجائيں گے، پاؤں کو پاني سے باہر نکال کرتولئيے سے اچھي
طرح خشک کرليں، انگليوں کے درمياں حصوں کو بھي اچھي طرح خشک کريں۔
پاؤں کي گانٹھيں دور کرنے کے لئے نسخے۔
چار
ليٹر نيم گرم پاني ميں چار چمچع نمک ملائيں، اس پاني سے دس منٹ تک پاؤں کو ڈبو
کر رکھيں، اس سے پاؤں کي جلد ملائم ہوجائےگي، اب سکرب (Scrubber) سے
گانٹھ کي جلد ھلکا ھلک کھرچيں ايک بار ميں گانٹھ کو پوري طرح سے کھرچ کر نہ
نکاليں، لگاتار کئي دنوں تک گانٹھ کو نکاليں، گانٹھ والي جگہ پر مکھن يا ملائي
لگائيں پاؤں ميں گانٹھيں نہ ہو اس کے لئے صيح ناپ کا جوتا پہنيں۔
ايڑي کے اوپروالے حصے پاس ميل کي موٹي پرت جمنے يا گانٹھ پڑنے پر اس جگہ
پر پچاس گرام گڑ ميں ايک چمچع ہلدي ملاکر، گاڑھا پيسٹ بنا کرلگائيں، اسے آدھے
گھنٹے تک لگےرہنے ديں،اور پھر ٹھنڈے پاني سے دھوليں، گڑ اور ہلدي وہاں کے مردہ
خلئيوں کو ھٹا کر جلد کو ملائم بنا ديتے ھيں۔
آگے صفحے پر جائيں>>>> |